ملیٹھی (سائنسی نام: گلیسیرائزا گلابرا) ایک نہایت اہم ادویاتی پودا ہے جس کی جڑ صدیوں سے آیوروید، یونانی اور دیگر روایتی نظامِ طب میں استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ اس کی جڑ قدرتی طور پر میٹھی ہوتی ہے اور اسے کھانسی، گلے کی خراش، معدے کے امراض، نظامِ ہاضمہ، جگر کی صحت اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والی ادویات کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ملیٹھی کی کاشت ایک منافع بخش زرعی کاروبار بنتی جا رہی ہے۔
کشمیر کی معتدل آب و ہوا، زرخیز زمین اور مناسب نمی ملیٹھی کی کامیاب کاشت کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہ پودا اچھی نکاسی والی ریتلی میرا (Sandy Loam) یا میرا (Loam) زمین میں بہترین نشوونما پاتا ہے، جبکہ زمین کی پی ایچ (pH) 6.0 سے 7.5 کے درمیان ہونی چاہیے۔ ایسی زمین جہاں پانی کھڑا نہ ہو، ملیٹھی کی جڑوں کی بہتر نشوونما کے لیے زیادہ موزوں رہتی ہے۔
کشمیر میں اس کی کاشت کا بہترین وقت مارچ سے اپریل ہے، جب شدید سردی ختم ہو چکی ہو۔ عموماً اس کی افزائش جڑ کے ٹکڑوں (Root Cuttings) یا زیرِ زمین تنوں (Stolons) کے ذریعے کی جاتی ہے، کیونکہ اس طریقے سے پودے جلدی اور بہتر نشوونما پاتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں باقاعدہ آبپاشی اور جڑی بوٹیوں کی صفائی ضروری ہوتی ہے، جبکہ بعد میں یہ فصل نسبتاً کم دیکھ بھال میں بھی اچھی پیداوار دیتی ہے۔
ملیٹھی ایک طویل المدتی فصل ہے اور اس کی جڑیں عموماً دو سے تین سال بعد برداشت کے قابل ہوتی ہیں۔ برداشت کے بعد جڑوں کو اچھی طرح صاف کرکے سایہ دار جگہ میں خشک کیا جاتا ہے تاکہ ان کی دواؤں والی خصوصیات محفوظ رہیں۔

No comments:
Post a Comment